وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کے دورے سے ایران اور سعودی عرب سے ہماری توقعات سے زیادہ مثبت جواب ملا ہے، دونوں ممالک کی قیادت سے ملاقاتیں انتہائی مفید رہیں، علاقے پر جنگ کے بادل چھٹتے نظر آ رہے ہیں۔

ایران نے کشیدگی کم کرنے کے لئے مذاکرات پر آمادگی ظاہر کی ہے، سعودی عرب کی قیادت نے بھی کشیدگی میں کمی کے لئے سفارتی کوششوں پر اتفاق کیا، وزیراعظم نے مسئلہ کشمیر پر ساتھ دینے پر سعودی عرب اور ایران کا شکریہ ادا کیا ہے، بین الپارلیمانی یونین کے اجلاس میں پاکستان نے موثر انداز میں مسئلہ کشمیر اجاگر کیا، مولانا فضل الرحمن سے رابطے کے لئے وزیر دفاع پرویز خٹک کی سربراہی میں سیاسی کمیٹی بنائی جائے گی، سیاسی جلسے، جلوس اور دھرنوں سے حکومتیں نہیں گرائی جا سکتیں، ہمیں کوئی خوف نہیں کسی کو غلط فہمی نہ ہو، جتھے اور لٹھ برداری کی کسی کو اجازت نہیں دی جا سکتی، 27 اکتوبر کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی اور یوم سیاہ کے طور پر منایا جائے گا، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں بلدیاتی انتخابات کا پہلا مرحلہ فروری 2020ءمیں ہو گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو یہاں وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان کے سعودی عرب کے ساتھ سٹریٹجک تعلقات ہیں اور ایران بھی ہمارا برادر ہمسایہ ملک ہے، آپ کے علم میں ہے کہ آئیل ٹینکر پر میزائل حملہ ہوا تو خطے میں خاصی کشیدگی پیدا ہو گئی، ان حالات میں وزیر اعظم عمران خان نے فیصلہ کیا کہ اگر کشیدگی بڑھی تو نہ صرف خطہ بلکہ پوری عالمی معیشت متاثر ہوتی جس کا اثر پاکستان سمیت دنیا بھر پر پڑتا، اس سوچ کے پیش نظر وزیر اعظم نے ایران کا دورہ کیا اور ایران کے صدر اور سپریم لیڈر کے ساتھ مفید اور اچھے ماحول میں ملاقاتیں ہوئیں، ایران نے فراخدلی سے کہا کہ وہ کشیدگی نہیں چاہتے معاملات سلجھانا چاہتے ہیں۔

وہ محاذ آرائی کے خواہاں نہیں اور مذاکرات کے حامی ہیں، براہ راست مذاکرات اور تھرڈ پارٹی فیسلی ٹیشن کےلئے بھی تیا رہیں، اس مثبت رویے کے پیش نظر ہم نے سعودی عرب کا دورہ کیا، وزیر اعظم عمران خان کی سعودی فرمانروا اور ولی عہد سے ملاقاتیں ہوئیں اور ان میں پاکستان کا نکتہ نظر خطے کی ضروریات اور ایران کے جذبات سے انہیں آگاہ کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم پر امید ہیں کہ اب جنگ کے بادل چھٹتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں، کل کی نشست حوصلہ افزا تھی کہ ہم سفارتی اور پر امن عمل کو ترجیح دیں گے تاکہ غلط فہمیاں گفت و شنید سے حل کر سکیں۔۔

Tagged : # # #

adminnida

writer