World ورلڈ نیوز

اسلام مخالف پوسٹ کرنےپر کینیڈا میں ہندوستانی نوکری سے فارغ کر دیاگیا۔

Image credit Stock

دوسرے ممالک میں کام کرنے والے ہندوستانی انتہا پسند زیادہ تر سوشل میڈیا پر اسلام مخالف پوسٹ کرتے ہوئے نوکریوں سے ہاتھ دھو رہے ہیں اور یہ تازہ واقعہ کنیڈا کے اندر پیش آیا ہے۔

روی ہڈانامی شخص نےسماجی رابطےکی ویب سائیٹ ٹوئٹر پر اس وقت اسلام مخالف پوسٹ کی جب گزشتہ دن ٹورانٹو کے میئر نے یہ اعلان کیا کہ مسلمانوں کو نماز مغرب کی اذان کے لیے لاؤڈ سپیکر کی اجازت دے دی گئی ہے مئیر نے اپنے پیغام میں یہ لکھا کہ انیس سو چوراسی کے اس قانون میں اب سبھی مذاہب کو شامل کیا گیا ہے جس میں پہلے چرچ کی گھنٹی کی آواز کی اجازت دی گئی تھی۔

بھارتی شہری روی ہڈا نے میئر کے ٹوئٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے ہوئے کہا کہ اب کیا اونٹ اور بکریوں کو چرانے کے لیے الگ سے لائن کا بندوبست کیا جائے گا قربانی کے نام پر گھر میں ہی جانوروں کو قتل کیا جائے گا کیا خواتین کو سر سے پیر تک برقع میں رہنے کے لئے قانون بنایا جائیگا ووٹوں کی خاطر بیوقوفوں کو خوش کرنے کے لئے کچھ بھی کیا جارہا ہے بھارتی شہری کا یہ ٹوئٹ وائرل ہوگیا ۔ بعد میں اس نےٹویٹ ڈیلیٹ بھی کر دیا تھامگر اس وقت اس کا سکرین شاٹ سوشل میڈیا پر وائرل ہوگیا جس پر کینیڈا کے اینٹی ہیٹ نیٹ ورک نےکاروائی کا مطالبہ کیا ۔ کروائی کا مطالبہ زور پکڑنے پر بھارتی شہری کو ریئل اسٹیٹ کمپنی نے نوکری سے نکال دیا کمپنی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ وہ اس ٹویٹ سے متفق نہیں اور ایسا کرنے کی وجہ سے ہم اس کو نوکری سے نکال رہے ہیں ۔

ہندوستانی شہری کا وہ ٹوئیٹ جس کی وجہ سے اسے نوکری سے نکال دیا گیا