سفاک خاتون انجام کو پہنچ گئ۔

لیزا مونٹ گومیری نامی امریکی خاتون کو بدھ کے روز موت کی سزا دے دی گئی۔لیزا 16 سال قبل 2004 میں ایک حاملہ خاتون کے گھر کتا خریدنے کے بہانے گئی تھی اور اس کو رسی سے گلہ گھونٹ کر قتل کرنے کے بعد چاقو سے پیٹ چاک کر کے آٹھ ماہ کی بچی کو رحم سے نکال کرلے گئی تھی۔پولیس نے کڑی تفتیش کے بعد ملزمہ کو گرفتار کرلیا تھا۔ خاتون نے چار سال بعد 2008 میں اعتراف جرم بھی کر لیا تھا۔ خاتون کو زہر کا ٹیکہ لگا کر موت کی سزا دی گئی ہے۔ واضح رہے کہ خاتون کے سزا میں دیری کی وجہ عورت کو موت کی سزا پر بابندی تھی جو اب سے تین ماہ پہلے ختم ہوئی ہے۔ امریکا میں تقریبا 70 سال کے بعد کسی خاتون کو موت کی سزا دی گئی ہے۔

مجرمہ کی وکیل نے اپنے موکلہ کو موت کی سزا پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ لیزا کو بچپن میں ذہنی اور جسمانی طور پر ہراساں کیا گیا تھا ۔جس سے وہ نفسیاتی مریضہ بن گئی تھی ۔ اس کو سزائے موت نہیں دینی چایئے تھی۔ اس کو بھی جینے کا حق دینا چاہیے تھا۔ چاہے وہ عمر بھر سلاخوں کے پیچھے گزار دیتی۔ واضح رہے کہ ماں کے رحم سے نکالی جانے والی بچی سولہ سال کی ہو چکی ہے اور فیڈرل کورٹ کے حکم کے مطابق باپ کے حوالے کر دی گئی ہے

2 Replies to “سفاک خاتون انجام کو پہنچ گئ۔”

Comments are closed.