ترکمانستان حکومت کا جہنم کے دروازے کو بند کرنے کا فیصلہ کیوں کیا

ترکمانستان کے صحرائے قراقم کے وسط میں ایک ایسا گڑھا واقع ہے جو نصف صدی سے مسلسل آگ اگل رہا ہے۔ یہ گڑھا گیس کے اخراج کے نتیجے میں تقریبا نصف صدی سے نہیں بجھ سکا ہے۔اس گڑھے کو عالمی سطح پر دار- فازاکے نام سے بھی جانا جاتا ہے جس کا قطر 60 میٹر اور گہرائی 20 میٹر ہے جہاں سے آگ اٹھتی ہے۔یہ گڑھا قدرتی نہیں بلکہ مصنوعی ہے۔وہاں کا صحرا قدرتی گیس اور تیل سے مالا مال ہے۔ اس لیے یہ بنجر علاقہ تحقیق اور کھدائی کرنے کا ذریعہ ہے۔عرب میڈیا کے مطابق یہ جلتا ہوا گڑھا 1971 میں نمودار ہوا جب قدرتی گیس کی تلاش میں اس جگہ ایک کنواں کھودا گیا۔ لینڈ سلائیڈنگ ہوئی تو یہ بڑا ساگڑھا بن گیا۔

اس وقت کے ماہرین ارضیات نے اس سوراخ سے نکلنے والی گیس کو آگ لگانے کا فیصلہ کیا۔ وہ یہ سوچ رہے تھے کہ آگ لگنے سے گیس جل کر ختم ہوجائے گی اور اس کا بہائو رک جائے گا۔ مگر ایسا نہیں ہوا بلکہ اس میں آج بھی آگ جل رہی ہے۔یہ آگ کا گڑھا دنیا بھر سے سیکڑوں سیاحوں کے لیے ایک پرکشش سیاحتی مقام بن گیا ہے۔ سال 2009 سے 2021 تک 50,000 سے زیادہ سیاح اس جگی کا دورہ کر چکے ہیں۔لیکن حال ہی میں ترکمانستان کے صدرگربنگ ولی بردی محمدوف نے تیل اور گیس کمپلیکس کے انچارج نائب وزیر اعظم شکیم ابراہم انوف کے ساتھ ایک اجلاس کے دوران اسے بجھانے کے لیے طریقہ کار وضع کرنے کا حکم دیا۔بردی مخمی دوف نے کہا کہ اس صورتحال کا ماحول اور آس پاس رہنے والے لوگوں کی صحت پر برا اثر پڑتا ہے۔

SHARE NOW

Leave a Reply

Your email address will not be published.