World ورلڈ نیوز

شہید بابری مسجد کےحوالے سے متنازعہ فیصلہ کرنے والا چیف جسٹس کو مودی سرکار کی رٹائرمنٹ بعد نوازشات

Photo PTI

بابری مسجد کیس میں ہندو انتہا پسندوں کے حق میں فیصلے دینے والا سابق چیف جسٹس رنجن گوگوئی کو مودی سرکار نے راجیہ سبھا کی سیٹ سے نواز دیا ۔ گو گوئی 17نومبر 2019 کو ریٹائرڈ ہوئے تھے

آپ کو بتاتے چلیں کہ انہوں نے بابری مسجد کا متنازعہ فیصلہ سنایا اور ہندوؤں کے رام مندر تعمیر کے لئے راستہ صاف کیا تھا اور اس فیصلے پر کئی حلقوں کی جانب سے سوال بھی اٹھے تھے ۔اس چیف جسٹس کی قیادت والی بینچ نے بابری مسجد پر فیصلہ سناتے ہوئے مانا تھا کہ مسجد کو کسی مندر کو توڑ کر نہیں بنایا گیا تھا اور مسجد کے توڑنے والے عمل کو مجرمانہ عمل قرار دیا تھا لیکن ایودھیا کی وہ زمین جس پر جھگڑا تھا وہی زمین مندر پر نام کرنے کا فیصلہ سنا دیا تھا اس فیصلے نے ہندوستان کے مسلمانوں کو بھی حیرت میں ڈال دیا تھا ۔

لیکن مودی سرکار کے اس نئے فیصلے نے جلتی پر تیل کا کام کیا اور متنازعہ رہنے والے چیف جسٹس کو راجیہ سبھا کا ممبربناکر لوگوں کے شکوک و شبہات کو دور کردیا کہ انصاف کی سیٹ پر بیٹھنے والا یہ انسان کس طرح انتہا پسند ہندوؤں کے مفاد کے لئے کام کر رہا تھا ۔