World ورلڈ نیوز

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی اسٹیٹ آفس واشنگٹن میں امریکی وزیرخارجہ مائیک پمپیو سے ملاقات

دوران ملاقات دو طرفہ پاک امریکہ تعلقات، اہم علاقائی و باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہء خیال۔مشرق وسطیٰ میں پائی جانے والی کشیدگی اور خطے میں امن و امان کی صورتحال کے تناظر میں وزیر اعظم عمران خان کی ہدایت پر امریکہ کا دورہ کر رہے ہیں۔ وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے اپنے حالیہ دورہ ء ایران و سعودی عرب کے دوران ہونیوالی ملاقاتوں کی تفصیلات سے امریکی وزیر خارجہ کو آگاہ کیا۔امریکی وزیر خارجہ کو آگاہ کیا۔ وزیر خارجہ نے اپنے امریکی ہم منصب کو بھارت کی جانب سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ بھارت نے گزشتہ پانچ ماہ سے 80لاکھ کشمیریوں کو کرفیو کے ذریعے محصور کر رکھا ہے ۔پاکستان، خطے میں امن و استحکام کا خواہاں ہے اور خطے میں پائی جانے والی کشیدگی کے خاتمے کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کیلئے پر عزم ہے۔ مقبوضہ جموں و کشمیر میں ذرائع مواصلات پر تاحال پابندی عائد ہے تاکہ اصل حقائق کو دنیا کی نظروں سے اوجھل رکھا جائے۔ امریکہ اور پاکستان کا “پرامن جنوبی ایشیا” کا خواب اس وقت تک شرمندہ ء تعبیر نہیں ہو سکتا جب تک مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں اور اسی لاکھ کشمیریوں کے استصواب رائے سے حل نہیں کیا جاتا۔ افغانستان میں قیام امن کیلئے پاکستان اور امریکہ کی مشترکہ کاوشوں سے ،چالیس سالہ طویل محاذ آرائی کے بعد سیاسی حل کے ذریعے “امن کی نوید سنائی دے رہی ہے۔پاکستان، خلوص_نیت کے ساتھ “افغان امن عمل”کی اس مشترکہ ذمہ داری کو نبھا رہا ہے۔ تاریخی اعتبار سے جنوبی ایشیائی خطے میں قیام امن کیلئے پاکستان اور امریکہ کی مشترکہ کاوشیں ہمیشہ سود مند ثابت ہوئی ہیں اور دونوں ممالک کیلئے یکساں مفید رہی ہیں۔ وزیر اعظم عمران خان اور صدر ٹرمپ کے جامع دو طرفہ پاک امریکہ تعلقات کے وژن کو عملی جامہ پہنانے کے لیے دو طرفہ تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینے کی ضرورت ہے